2 اپریل 2018 - 14:31
شعور کا پیامبر۔۔!!

شعور کا مذہب یا عقیدہ صرف ارتقاء کائنات ہے اور شعوری مذہب کا باشندہ ہوتے ہوئے اسٹیفن ہاکنگ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے دعا گو ہوں اس اُمید کے ساتھ کہ کبھی نہ کبھی ہم جہالت اور ذلت کے وہ لبادے اُتار پھینکیں گے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا؛ زاویہ نگاہ//
 بقلم سیّد تصور حسین نقوی ایڈووکیٹ
  '' میرا مقصد سادہ ہے۔ کائنات کا مکمل فہم، یہ کیوں ایسی ہے اور یہ کیسے اب تک باقی ہے۔؟ یہ کہنا تھا آسمان ِ سائنس کے درخشندہ ستارے  اسٹیفن ہاکنگ کا، جس کی بصیرت نے جدید علم ِ کائنات کی صورت گری کی اور دنیا بھر میں کروڑوں لوگوں کو مداح بنایا۔ جدید علم کائنات(کاسمولوجی ) کا صورت گر ، ذہانت اور مزاح سے بھرپور ، ہمت و استقلال کی علامت ایک غیر معمولی شخصیت جنہیں اُن کے وجدان اور انتہائی شاندار حس مزاح  نے شکستہ جسم اور اُنکی مصنوعی آواز سے مل کر ان کے ساتھی سائنس دانوں اور پیاروں کی نظر میں انسانی ذہن کے لا محدود امکانات کی علامت بنا ڈالا ۔موٹر نیورون جیسی موزی بیماری جو اپنے مریض کا شکار کر کے ہی دم لیتی ہے لیکن ا سٹیفن ہاکنگ نے اپنی قوت ارادی سے  اس خطرناک بیماری کو اس انداز سے شکست دی کہ  موت کو چودہ مارچ دو ہزار اٹھارہ کا انتظار کرنا پڑا۔خدا کی قدرت کا ایک نادر نمونہ جسے اکیس سال کی عمر میں صرف دو سال جینے کی خبر سنائی گئی مگر وہ  نصف صدی سے زائد کائنات کی زندگی پر پڑے پردے اُتارتا،کائنات کے سربستہ رازوں کو منکشف کرتا اور دنیا کو سنوارنے، بنانے اور ان دیکھے توہمات سے باہر نکالنے کے خواب دیکھتا رہا۔گردن دائیں جانب ڈھلکی، پورا جسم مفلوج لیکن اس کی پلکوں میں زندگی کی رمق باقی رہی۔ طبی ماہریں نے انیس سو چو ہتر میں ہاکنگ کو  الوداع کہا لیکن اس عظیم انسان نے شکست تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ مفلوج  جسم  کے ساتھ اس نے اپنی نیم مردہ پلکوں پر ہی زندہ رہنے ، آگے بڑھنے  اور عظیم سائنسدان بننے کا خواب دیکھا۔ ویل چیئر پر بیٹھے اس شخص نے کائنات کے رموز کھولے تو دنیا حیران رہ گئی۔کیمبرج کے سائبر ماہرین نے ہاکنگ کے لئے  '' ٹاکنگ '' کمپیوٹر ایجاد کیااور اسے ویل چیئر پر لگا دیا گیا ، یہ کمپیوٹر اسٹیفن ہاکنگ کی پلکوں کی زبان سمجھ لیتا، اسٹیفن اپنے خیالات پلکوں سے کمپیوٹر  پر منتقل کرتا، خاص زاویے ، توازن اور ردھم کے ساتھ ہلتی پلکیں کمپیوٹر کی اسکرین پر لفظ ٹائپ کرتی جاتیں، اور ساتھ ساتھ اسپیکر سے یہ الفاظ نشر بھی ہو جاتے۔  اسٹیفن ہاکنگ نے ایبلٹی]اہلیت[  اور ڈس ایبلٹی  ] معذوری[  کا فرق واضح کرتے ہوئے یہ ثابت کیا کہ ایبل وہ ہے جو متجسس فطرت کے لوگ ہوتے ہیں اور کائنات کے اسرار پر غور کرتے ہیں ،جبکہ ڈس ایبل  وہ ہوتے ہیں جو عقل و تجربہ اور تجسس کو  ناپسند کرتے ہیں۔اسٹیفن ہاکنگ دنیا کاواحد انسان تھاجو اپنی پلکوں سے بولتااور دنیا اسے سنتی۔   ان کا سب سے بڑا کارنامہ کائنات  میں ایک ایسا '' بلیک ہول '' دریافت کرنا تھا جس سے روزانہ نئے سیارے جنم لیتے ہیں۔ اس بلیک ہول سے ایسی شعاعیں خارج ہوتی ہیں جو کائنات میں بڑی تبدیلیوں کا سبب بھی ہیں۔ ان شعاوں کو اسٹیفن ہاکنگ شعاعیں بھی کہا جاتا ہے۔انہوں نے بلیک ہول کی ریاضیات کا ساری کائنات پہ اطلاق کیا  اور دکھایا کہ زمان و مکان  ] ٹائم سپیس[ کے ایک لا محدود گھماؤ  ] دائرے [ کے ایک یکتائی علاقے میں ہمارا بہت دور کا ماضی موجود ہے۔ انہوں نے پلکوں کے ذریعے بے شمار کتابیں لکھیں۔ '' کوانٹم گریویٹی''  اور کائناتی سائنس  ] کاسمالوجی[ کو نیا فلسفہ نئی زبان دی۔ ان کی کتاب   '' اے بریف ہسٹری آف ٹائم ''  نے پوری دنیا میں تہلکہ مچایا۔ اے بریف ہسٹری آف ٹائم،، فرام دی بگ بینگ ٹو بلیک ہولز'' اردو میں اسکا ترجمہ  '' وقت کا سفر'' کے نام سے بھی شائع ہوا۔اسٹیفن ہاکنگ نے سائنسی اصولوں پہ منطق کے ساتھ کچھ تھیوریاں دیں اور انسانیت کو منطق اور سائنسی فکر سے روشناس کرایا اور مایوس لوگوں کو زندگی کی خوبصورتی پر لیکچر دئیے، اُنکا کہنا تھا کہ  '' اگر میں اس معذوری کے باوجود کامیاب ہو سکتا ہوں ، اگر میں  میڈیکل سائنس کو شکست دے سکتا ہوں، اگر میں موت کا راستہ روک سکتا ہوںتو تم لوگ جن کے سارے اعضا ء سلامت ہیں، جو چل سکتے ہیں ، جو دونوں ہاتھوں سے کام کر سکتے ہیں ، جو کھا پی سکتے ہیں، جو قہقہ لگا سکتے ہیں اور جو اپنے تمام خیالات دوسرے لوگوں تک پہنچا سکتے ہیں وہ کیوں مایوس ہیں۔''  موت اگر زندگی کی حد ہے تو اسٹیفن ہاکنگ اسی دن مر گیا تھا جب اس کی زندگی ایک وہیل چیئر تک محدود ہوئی تھی، اس کے آگے امکان کی سرحدیں اپنی جسمانی  قوت  سے عبو ر کرنا اس کے لئے ممکن نہ رہا تھا، لیکن  زندگی اگر زمان و مکاں سے ماورا  بھی کسی شے کا نام ہے تو خود طبعیات کے نظریے  کے مطابق مادہ کبھی فنا نہیں ہو سکتا، اسٹیفن  ہاکنگ سائنس کے جہان کا وہ مادہ ہے  جس کا فنا ہو جانا اب کسی بھی طور ممکن نہیں ہے، کم از کم اس وقت تک تو نہیں جب تک یہ زمین باقی ہے جہاں اپنی کمپیوٹر وہیل چیئر  پر بیٹھ کر وہ آسمانوں سے آنے والوں کی راہ تکا کرتا تھا۔اپنی آنکھوں کی پتلیوں سے رموز ِ کائنات کھولنے والا سٹیفن ہاکنگ انسان کو یہ بتا گیا کہ '' انسان کو خدا نے تسخیر ِ کائنات کے لئے پیدا کیا ہے ''۔اس نے سائنس کی عینک سے کائنات کو دیکھا، سمجھا، جانا اور پہچانا اور اپنی ساری زندگی  کائنات کے سر بستہ رازوں کو کھولنے  اورخالق ِ کون و مکان کی نشانیاں کھوجنے میں گزاری۔ منکر ِ خدا ہونے کے باوجود بھی خدا نے انہیں وہ ودیعت کیا جو عقیدوں والوں کو نہیں مل سکا ۔علم کو محدسے لحد تک حاصل کرتے رہنے اور حصول علم کے لیے  ''چین''  تک جانے کو خود پر فرض سمجھنے والے ہم علم اس کو نہیں کہتے جس  میں کائنات کی سر بستہ رازوں سے پردہ اٹھا کر الحاد پھیلانے کی کوشش کی جاتی ہو، ہمارے ہاں تو تعلیم کا مطلب ہی کچھ اور ہے۔ ہم تعلیم کو اپنے عقیدے کے استحکام کا ذریعہ سمجھتے ہیں یا تعلیم سے اپنے راسخ العقیدہ ہونے کا ثبوت تلاش کرتے ہیں۔'' آج اسٹیفن ہاکنگ کے جانے سے اس جہاں میں کوئی خلا پیدا نہیں ہوا ، مسلم دنیا میں تو بالکل بھی نہیں کیونکہ ہمارے  نزدیک محد سے لحد تک علم حاصل کرنے کے معانی ہی کچھ اور ہیں، ہاں مگر خلل پڑے گا تو خلاؤں میں، ہواؤں میں، مستقبل کے اس جہاں میں ، جہاں سے کسی کے آنے کی امید دل میں لئے اسٹیفن ہاکنگ  تنہائی میں بیٹھے آنے والوں کی راہ تکا کرتا تھا۔''  اسٹیفن ہاکنگ اپنے بلیک ہول کی طرف روانہ ہوگیا جبکہ  ہمارے ہاں نہ تو علماء  اور سائنس دانوں کی کمی ہے اور نہ ہی آسمان کی وسعتوں کے بارے میں سوچنے والوں کی۔  ہمارے لئے آسمان ہمیشہ سے  ایک مقدس جگہ رہی ہے، سو ہم  نے صرف خالی ہاتھ اٹھا کر مانگنے کا ہنر سیکھا اور نسلوں کو سکھایا ہے، اس لئے ہم کائنات  کی وسعتوں  میں گم ہو کر کچھ تلاش کرنے کی بجائے  دوسروں کو ملحد اور کافری کا فتوی دیتے ہیں۔  شعور کا مذہب یا عقیدہ صرف ارتقاء کائنات ہے اور شعوری مذہب کا باشندہ ہوتے ہوئے اسٹیفن ہاکنگ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے دعا گو ہوں  اس اُمید کے ساتھ کہ کبھی نہ کبھی ہم جہالت اور ذلت کے وہ لبادے اُتار پھینکیں گے، جو ہم نے صدیوں سے خود پر مسلط کر رکھے ہیں اور پھر ایک دن کائنات کے دروازے کھلیں گے اور اُفق کے اس پار سے آنے والے کے استقبال کرنے والوں میں ہم بھی شامل ہونگے اور دعا کی طاقت سے سیاروں و ستاروں کو  علماء کی بارگاہ میں غلامان کا روپ دھار کر اتارنے کی  روش کو چھوڑ کر حقیقی معنوں میں اپنے خالق و مالک کوجانتے، مانتے  اور پہچانتے ہوئے کائنات کے سربستہ رازوں کو منکشف کریں گے ، دلیل اور ثبوت کی بنا  پرآسمان کی بلندیوں کو چیرنے ،کائنات کے اسرار و رموز پر کام کرنے ، مختلف امکانات اور ارتقاء کائنات  پر غور کریں گے اور ہمارا یہ عمل اور تخلیقی سوچ ہر گز بھی توہین مذہب کی مرتکب نہیں ٹھہرے گی۔۔!!  

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲